EntertainmentNovember 10, 2025
کراچی:

سرخی: مولانا طارق جمیل کے بیٹے یوسف جمیل نے توڑی خاموشی، نکاح پر ہونے والی تنقید کا جواب دیا
مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے یوسف جمیل نے ڈاکٹر نبیہا علی کا نکاح پڑھانے کے بعد سوشل میڈیا پر چل رہی تنقید پر خاموشی توڑ دی ہے۔
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں مولانا یوسف جمیل نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے حال ہی میں ڈاکٹر نبیہا علی کا نکاح پڑھایا، جس کے بعد ان پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔
مولانا یوسف جمیل نے اپنے بیان میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا طارق جمیل مذکورہ خاتون (ڈاکٹر نبیہا علی) کو ذاتی طور پر جانتے تک نہیں ہیں۔ درحقیقت مولانا کے ایک دوست نے ہی نکاح پڑھانے کی درخواست کی تھی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا نے اپنی زندگی میں ہزاروں نکاح پڑھائے ہیں، اور ان کا معمول رہا ہے کہ جو بھی شرعی طور پر جائز نکاح پڑھانے کی درخواست لے کر آتا ہے، وہ اسے رد نہیں کرتے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مولانا طارق جمیل کی ذات اور زندگی مکمل طور پر شفاف ہے، اور ان کی دینی خدمات کا سلسلہ کئی عشروں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناتے، جو دین کی خدمت کو اپنا مشن سمجھتے ہیں، اخلاقی ذمہ داریوں کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے، اور مولانا ہمیشہ سے اس کا لحاظ رکھتے آئے ہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “اس معاملے میں میری گزارشات پیش ہیں۔ اگر اس کے باوجود کوئی شخص سمجھتا ہے کہ مولانا پر تنقید درست ہے، تو وہ اپنا موقف رکھتا ہے۔”
یوسف جمیل نے بتایا کہ صحت کے مسائل اور عمر کی زیادتی کے پیش نظر مولانا طارق جمیل نے اب نکاح پڑھانے کے معاملے میں خود کو بہت حد تک محدود کر لیا ہے، تاہم یہ سلسلہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا، “برسوں سے چلا آ رہا یہ معمول یکلخت بدلنا آسان نہیں ہوتا۔ نیز، لوگ اس بات سے خوشی محسوس کرتے ہیں کہ ان کے عائلی مراسم مولانا جیسے بزرگ کے ہاتھوں منعقد ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ نکاح پڑھوانے کے لیے آنے والا شخص کون ہے۔ یوسف جمیل نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مولانا طارق جمیل کا مذکورہ خاتون کے ساتھ بیٹھنا درست نہیں تھا، اور شرعی اعتبار سے بھی اس کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے اس ضمن میں ایک نرمی کا پہلو بھی پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ مولانا 72 سال کی عمر کے بزرگ ہیں، نہ کہ کوئی جوان شخص۔ انہوں نے زور دیا کہ جن خواتین کا نکاح مولانا پڑھاتے ہیں، وہ عملاً ان کی بیٹیوں کے برابر ہیں، اور ایک بزرگ کی حیثیت سے وہ ان کے لیے باپ جیسے درجے رکھتے ہیں۔